ہم نے کسی کو عہد وفا سے رہا کیا

یاسمین حمید

ہم نے کسی کو عہد وفا سے رہا کیا

یاسمین حمید

MORE BYیاسمین حمید

    ہم نے کسی کو عہد وفا سے رہا کیا

    اپنی رگوں سے جیسے لہو کو جدا کیا

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم

    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    اس میں ہماری اپنی خودی کا سوال تھا

    احساں نہیں کیا ہے جو وعدہ وفا کیا

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں

    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    عہد مسافرت سے وہ منسوخ ہو چکی

    جس رہ گزر سے تم نے مجھے آشنا کیا

    اپنی شکستگی پہ وہ نادم نہیں ہوا

    میری برہنہ پائی کا جس نے گلہ کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY