ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا

آغا اکبرآبادی

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا

آغا اکبرآبادی

MORE BY آغا اکبرآبادی

    ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا

    بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگا

    نہ مڑ کر تو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر

    نہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہوگا

    میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں

    تمہارے در سے سر پھوڑوں گا سودا بھی اگر ہوگا

    چمن میں لائی ہوگی تو صبا مشاطگی کر کے

    جو گل سے آگے لپٹا ہے کسی بلبل کا پر ہوگا

    تری کا بھی وہی مالک ہے جو مالک ہے خشکی کا

    مددگار اپنا ہر مشکل میں شاہ بحر و بر ہوگا

    تصور زلف کا گر چھوڑ دوں مژگاں کا کھٹکا ہے

    جو سر کے درد سے فرصت ملی درد جگر ہوگا

    طبیبو تم عبث آئے میں کشتہ ہوں فرنگن کا

    مری تدبیر کرنے کو مقرر ڈاکٹر ہوگا

    کسی کو کوستے کیوں ہو دعا اپنے لیے مانگو

    تمہارا فائدہ کیا ہے جو دشمن کا ضرر ہوگا

    مزا آئے گا دیوانوں کی باتوں میں پری زادو

    جو آغاؔ کا کسی دن دشت مجنوں میں گزر ہوگا

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY