ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے

صابر

ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے

صابر

MORE BYصابر

    ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے

    یہ رات یوں بن رہی ہے جیسے کہ سو گئی ہے

    دیے تھے کالی گھٹا کو ہم نے ادھار آنسو

    کسے کہیں اب کہ ساری پونجی ڈبو گئی ہے

    ہم اس کی خاطر بچا نہ پائیں گے عمر اپنی

    فضول خرچی کی ہم کو عادت سی ہو گئی ہے

    وہ ایک ساحل کہ جس پہ تم خود کو ڈھونڈتے ہو

    وہیں پہ اک شام میرے حصے کی کھو گئی ہے

    میں یوں ہی مہرے بڑھا رہا ہوں جھجک جھجک کر

    خبر اسے بھی ہے بازی وہ ہار تو گئی ہے

    RECITATIONS

    صابر

    صابر

    صابر

    ہماری بے چینی اس کی پلکیں بھگو گئی ہے صابر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY