ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

اسلم کولسری

ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

اسلم کولسری

MORE BY اسلم کولسری

    ہماری جیت ہوئی ہے کہ دونوں ہارے ہیں

    بچھڑ کے ہم نے کئی رات دن گزارے ہیں

    ہنوز سینے کی چھوٹی سی قبر خالی ہے

    اگرچہ اس میں جنازے کئی اتارے ہیں

    وہ کوئلے سے مرا نام لکھ چکا تو اسے

    سنا ہے دیکھنے والوں نے پھول مارے ہیں

    یہ کس بلا کی زباں آسماں کو چاٹ گئی

    کہ چاند ہے نہ کہیں کہکشاں نہ تارے ہیں

    مجھے بھی خود سے عداوت ہوئی تو ظاہر ہے

    کہ اپنے دوست مجھے زندگی سے پیارے ہیں

    نہیں کہ عرصۂ گرداب ہی غنیمت تھا

    مگر یقیں تو دلاؤ یہی کنارے ہیں

    غلط کہ کوئی شریک سفر نہیں اسلمؔ

    سلگتے عکس ہیں جلتے ہوئے اشارے ہیں

    مآخذ:

    • Book : Range-e-Gazal (Pg. 126)
    • Author : shahzaad ahmad
    • مطبع : Ali Printers, 19-A Abate Road, Lahore (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY