ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے

طاہر عدیم

ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    ہر ایک رستۂ پایاب سے نکلنا ہے

    سراب عمر کے ہر باب سے نکلنا ہے

    سر عناصر کمیاب سے نکلنا ہے

    شمار نادر و نایاب سے نکلنا ہے

    طویل تر سے کسی خواب میں اترنے کو

    ہر ایک شخص کو اس خواب سے نکلنا ہے

    لہو لہو سر مژگاں طلوع ہونا ہے

    کنار خطۂ پر آب سے نکلنا ہے

    اسے بھی پردۂ تہذیب کو گرانا ہے

    مجھے بھی پیکر نایاب سے نکلنا ہے

    سکون لمحۂ بھاری نے ہی اگلنا ہے

    تو چین عرصۂ بے تاب سے نکلنا ہے

    نہیں ہے رہنا اسے بھی بہار میں طاہرؔ

    مجھے بھی موسم شاداب سے نکلنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے