ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

عبدالمتین نیاز

ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

عبدالمتین نیاز

MORE BYعبدالمتین نیاز

    ہجر میں گزری ہے اس رات کی باتیں نہ کرو

    آپ تجدید ملاقات کی باتیں نہ کرو

    دل نے ہر دور میں دنیا سے بغاوت کی ہے

    دل سے تم رسم و روایات کی باتیں نہ کرو

    ہمتیں قافلے والوں کی نہ ہوں پست کہیں

    رہرو گردش حالات کی باتیں نہ کرو

    چاہئے جوش طلب میرے شکستہ دل کو

    ایسے حالات میں صدمات کی باتیں نہ کرو

    زندگی اور بھی تشریح طلب ہے یارو

    غم کے تپتے ہوئے لمحات کی باتیں نہ کرو

    کتنے ہی زخم ہرے ہیں مرے سینے میں نیازؔ

    آپ اب مجھ سے عنایات کی باتیں نہ کرو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY