اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا

سحر انصاری

اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    اک خواب کے موہوم نشاں ڈھونڈ رہا تھا

    میں حد یقیں پر بھی گماں ڈھونڈ رہا تھا

    سائے کی طرح بھاگتے ماحول کے اندر

    میں اپنے خیالوں کا جہاں ڈھونڈ رہا تھا

    جو راز ہے وہ کھل کے بھی اک راز ہی رہ جائے

    اظہار کو میں ایسی زباں ڈھونڈ رہا تھا

    مرہم کی تمنا تھی مجھے زخم سے باہر

    درماں تھا کہاں اور کہاں ڈھونڈ رہا تھا

    شاید کہ وہ واقف نہیں آداب سفر سے

    پانی میں جو قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا تھا

    کب تھا اسے اندازہ سحرؔ سنگ فلک کا

    شیشے کے مکاں میں جو اماں ڈھونڈ رہا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Asaleeb (Pg. 202)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY