اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا

عرفان ستار

اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا

عرفان ستار

MORE BYعرفان ستار

    اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا

    اس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا

    وہ ہو رہا ہے جو میں نہیں چاہتا کہ ہو

    اور جو میں چاہتا ہوں وہی ہو نہیں رہا

    نم دیدہ ہوں، کہ تیری خوشی پر ہوں خوش بہت

    چل چھوڑ، تجھ سے کہہ جو دیا، رو نہیں رہا

    یہ زخم جس کو وقت کا مرہم بھی کچھ نہیں

    یہ داغ، سیل گریہ جسے دھو نہیں رہا

    اب بھی ہے رنج، رنج بھی خاصا شدید ہے

    وہ دل کو چیرتا ہوا غم گو نہیں رہا

    آباد مجھ میں تیرے سوا اور کون ہے؟

    تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا

    کیا بے حسی کا دور ہے لوگو کہ اب خیال

    اپنے سوا کسی کا کسی کو نہیں رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY