اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر

مصحفی غلام ہمدانی

اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر

مصحفی غلام ہمدانی

MORE BYمصحفی غلام ہمدانی

    اس قدر بھی تو مری جان نہ ترسایا کر

    مل کے تنہا تو گلے سے کبھی لگ جایا کر

    دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر

    ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر

    یہ بری خو ہے دلا تجھ میں خدا کی سوگند

    دیکھ اس بت کو تو حیران نہ رہ جایا کر

    ہاتھ میرا بھی جو پہنچا تو میں سمجھوں گا خوب

    یہ انگوٹھا تو کسی اور کو دکھلایا کر

    گر تو آتا نہیں ہے عالم بیداری میں

    خواب میں تو کبھی اے راحت جاں آیا کر

    اے صبا اوروں کی تربت پہ گل افشانی چند

    جانب گور غریباں بھی کبھی آیا کر

    ہم بھی اے جان من اتنے تو نہیں ناکارہ

    کبھی کچھ کام تو ہم کو بھی تو فرمایا کر

    تجھ کو کھا جائے گا اے مصحفیؔ یہ غم اک روز

    دل کے جانے کا تو اتنا بھی نہ غم کھایا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY