اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے

میر حسن

اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے

میر حسن

MORE BYمیر حسن

    اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے

    اب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگے

    دم بدم مجھ کو تصور ہے اسی دلبر کا

    رات دن پھرتا ہے میری وہ نظر کے آگے

    ہیں یہ اے جان مرے دل سے مجھے اپنے عزیز

    تیرے داغوں کو میں رکھتا ہوں جگر کے آگے

    گرمی اپنی کو فراموش کریں مہر وشاں

    سرد ہو جائیں سب اس رشک قمر کے آگے

    باد تندی سے میاں تیری مجھے حیرت ہے

    کیونکہ رکھتا ہے طپانچوں کو کمر کے آگے

    تیرے دانتوں سے میں تشبیہ نہ دوں گوہر کو

    پوت کو قدر نہیں سلک گہر کے آگے

    زور سے کام نکلتا نہیں بے زر کے دئے

    زر بھی حربہ ہے ترا ایک بشر کے آگے

    زر اگر برسر فولاد نہیں نرم شود

    زور کا زور دھرا رہتا ہے زر کے آگے

    کس کو کہتا ہے میاں یاں سے سرک یاں سے سرک

    کوئی بیٹھا نہیں آ کر ترے در کے آگے

    یہ تو مجلس ہے جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے

    کیوں جگہ بدلے کوئی کاہے کو سرکے آگے

    اب کہاں جائے حسنؔ ہاتھوں سے تیرے ظالم

    رکھ لیا تو نے اسے تیغ و سپر کے آگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY