جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ رضا علی کلکتوی

MORE BYوحشتؔ رضا علی کلکتوی

    جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

    یہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گی

    ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گا

    اپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی

    دل رشک عدو سے ہے سپند سر آتش

    یہ شمع تری بزم میں جلتی ہی رہے گی

    غمزہ ترا دھوکا یوں ہی دیتا ہی رہے گا

    تلوار ترے کوچے میں چلتی ہی رہے گی

    اک آن میں وہ کچھ ہیں تو اک آن میں کچھ ہیں

    کروٹ مری تقدیر بدلتی ہی رہے گی

    انداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میں

    واں ایک نہ اک بات نکلتی ہی رہے گی

    وحشتؔ کو رہا انس جو یوں فن سخن سے

    یہ شاخ ہنر پھولتی پھلتی ہی رہے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY