جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے

عباس قمر

جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے

عباس قمر

MORE BYعباس قمر

    جہاں سارے ہوا بننے کی کوشش کر رہے تھے

    وہاں بھی ہم دیا بننے کی کوشش کر رہے تھے

    ہمیں زور تصور بھی گنوانا پڑ گیا ہم

    تصور میں خدا بننے کی کوشش کر رہے تھے

    زمیں پر آ گرے جب آسماں سے خواب میرے

    زمیں نے پوچھا کیا بننے کی کوشش کر رہے تھے

    انہیں آنکھوں نے بیدردی سے بے گھر کر دیا ہے

    یہ آنسو قہقہہ بننے کی کوشش کر رہے تھے

    ہمیں دشواریوں میں مسکرانے کی طلب تھی

    ہم اک تصویر سا بننے کی کوشش کر رہے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY