جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے

شمیم کرہانی

جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے

شمیم کرہانی

MORE BYشمیم کرہانی

    جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے

    ایک برات آ چکی ایک برات اور ہے

    عشق کی اک زبان پر لاکھ طرح کی بندشیں

    آپ تو جو کہیں بجا آپ کی بات اور ہے

    پینے کو اس جہان میں کون سی مے نہیں مگر

    عشق جو بانٹتا ہے وہ آب حیات اور ہے

    ظلمت وقت سے کہو حسرت دل نکال لے

    ظلمت وقت کے لیے آج کی رات اور ہے

    ان کو شمیمؔ کس طرح نامۂ آرزو لکھیں

    لکھنے کی بات اور ہے کہنے کی بات اور ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY