جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے

شاہد ذکی

جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے

    سفر ہمارے لیے مسئلہ بنا ہوا ہے

    میں سر بہ سجدہ سکوں میں نہیں سفر میں ہوں

    جبیں پہ داغ نہیں آبلہ بنا ہوا ہے

    میں کیا کروں مرا گوشہ نشین ہونا بھی

    پڑوسیوں کے لیے واقعہ بنا ہوا ہے

    مگر میں عشق میں پرہیز سے بندھا ہوا ہوں

    ترا وجود تو خوش ذائقہ بنا ہوا ہے

    بریدہ شاخیں ہیں یا شمع ہائے گل شدہ ہیں

    خمیدہ پیڑ ہے یا مقبرہ بنا ہوا ہے

    مرے گنہ در و دیوار سے جھلک رہے ہیں

    مکان میرے لیے آئینہ بنا ہوا ہے

    شعوری کوششیں منظر بگاڑ دیتی ہیں

    وہی بھلا ہے جو بے ساختہ بنا ہوا ہے

    کسی دعا کے لیے ہاتھ اٹھے ہوئے شاہدؔ

    کسی دیے کے لیے طاقچہ بنا ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY