جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے

اکبر حیدرآبادی

جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے

اکبر حیدرآبادی

MORE BYاکبر حیدرآبادی

    جن پہ اجل طاری تھی ان کو زندہ کرتا ہے

    سورج جل کر کتنے دلوں کو ٹھنڈا کرتا ہے

    کتنے شہر اجڑ جاتے ہیں کتنے جل جاتے ہیں

    اور چپ چاپ زمانہ سب کچھ دیکھا کرتا ہے

    مجبوروں کی بات الگ ہے ان پر کیا الزام

    جس کو نہیں کوئی مجبوری وہ کیا کرتا ہے

    ہمت والے پل میں بدل دیتے ہیں دنیا کو

    سوچنے والا دل تو بیٹھا سوچا کرتا ہے

    جس بستی میں نفسا نفسی کا قانون چلے

    اس بستی میں کون کسی کی پروا کرتا ہے

    پیار بھری آواز کی لے میں مدھم لہجے میں

    تنہائی میں کوئی مجھ سے بولا کرتا ہے

    اس اک شمع فروزاں کے ہیں اور بھی پروانے

    چاند اکیلا کب سورج کا حلقہ کرتا ہے

    روح برہنہ نفس برہنہ ذات برہنہ جس کی

    جسم پہ وہ کیا کیا پوشاکیں پہنا کرتا ہے

    اشکوں کے سیلاب رواں کو اکبرؔ مت روکو

    بہہ جائے تو بوجھ یہ دل کا ہلکا کرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY