جو کارواں میں ہے شامل نہ رہ گزار میں ہے

خالدہ عظمی

جو کارواں میں ہے شامل نہ رہ گزار میں ہے

خالدہ عظمی

MORE BYخالدہ عظمی

    جو کارواں میں ہے شامل نہ رہ گزار میں ہے

    وہ شخص میری تمناؤں کے دیار میں ہے

    سحر شناس اندھیرے کہ شب گزیدہ سحر

    نہ وہ نگاہ میں اپنی نہ یہ شمار میں ہے

    یہ کیا خلش ہے کہ لو دے رہی ہے جذبوں کو

    نہ جانے کون سا شعلہ میرے شرار میں ہے

    بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں

    کوئی خیال کسی یاد کے حصار میں ہے

    رچی ہوئی ہے فضاؤں میں کس کے خون کی بو

    یہ کیسا جشن بہاراں مرے دیار میں ہے

    نہ جانے کون سے جھونکے سے جل بجھوں عظمیٰؔ

    مرا وجود ہواؤں کے کار زار میں ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Sitara Pas e Mizgaan (Pg. 55)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY