جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

انجم اعظمی

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

    سحر دم دامن دل بھر رہے گا

    علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے

    گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا

    ہوا مشکل ترے عاشق کا جینا

    ترے کوچے میں آ کر مر رہے گا

    دل وحشی نے کب آرام پایا

    ستم کی آگ میں جل کر رہے گا

    حیات جاوداں ہو یا کہ دنیا

    ترا بندہ ترے در پر رہے گا

    نہ ہو عصیاں تو کیسا حشر کا دن

    کہاں پھر داور محشر رہے گا

    حقائق سے جو دل الجھا ہوا ہے

    وہی خوابوں کا صورت گر رہے گا

    کوئی تو خیر کا پہلو بھی نکلے

    اکیلا کس طرح یہ شر رہے گا

    نہ بزم مے کدہ باقی رہے گی

    نہ دست شوق میں ساغر رہے گا

    جو دن ہے آنے والا بے اماں ہے

    قدم گھر سے اگر باہر رہے گا

    کوئی تو آعظمی صاحب کو سمجھاؤ

    یہ گوشہ شہر سے بہتر رہے گا

    مآخذ :
    • کتاب : siip-volume-46 (Pg. 35)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY