جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

احمد فراز

جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

احمد فراز

MORE BY احمد فراز

    جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے

    تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے

    تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار

    برگ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے

    شمع کی لو تھی کہ وہ تو تھا مگر ہجر کی رات

    دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے

    خلق کی بے خبری ہے کہ مری رسوائی

    لوگ مجھ کو ہی سناتے ہیں فسانے میرے

    لٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں سے بھرا ہے دامن

    دیکھ غارت گر دل یہ بھی خزانے میرے

    آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیر

    جس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

    کاش تو بھی میری آواز کہیں سنتا ہو

    پھر پکارا ہے تجھے دل کی صدا نے میرے

    کاش تو بھی کبھی آ جائے مسیحائی کو

    لوگ آتے ہیں بہت دل کو دکھانے میرے

    کاش اوروں کی طرح میں بھی کبھی کہہ سکتا

    بات سن لی ہے مری آج خدا نے میرے

    تو ہے کس حال میں اے زود فراموش مرے

    مجھ کو تو چھین لیا عہد وفا نے میرے

    چارہ گر یوں تو بہت ہیں مگر اے جان فرازؔ

    جز ترے اور کوئی زخم نہ جانے میرے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    غلام علی

    غلام علی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY