کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

طاہرہ جبین تارا

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

طاہرہ جبین تارا

MORE BY طاہرہ جبین تارا

    کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

    مجھ سے کوئی خیال سنوارا نہیں گیا

    مل کے لگا ہے آج زمانے ٹھہر گئے

    تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا

    طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی مری انا

    ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا

    خوشیوں کے قہقہے ہیں ہر اک سمت گونجتے

    لگتا ہے کوئی شہر میں مارا نہیں گیا

    انسان وحشیوں کی طرح ہیں کہ آج تک

    مفہوم زندگی کا ابھارا نہیں گیا

    آرائش جمال کسی کام کی نہیں

    روئے عمل کو جب کہ نکھارا نہیں گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY