کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

علی اکبر عباس

کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    کبھی سر پہ چڑھے کبھی سر سے گزرے کبھی پاؤں آن گرے دریا

    کبھی مجھے بہا کر لے جائے کبھی مجھ میں آن بہے دریا

    گاتا ہوں میرے سر میں سر مل جائے اس کی لہروں کا

    میری آنکھ میں آنسو دیکھے تو پھر اپنی آنکھ بھرے دریا

    میں اپنی اسے سناتا ہوں وہ اپنی مجھے سناتا ہے

    میں چپ تو وہ بھی چپ ہے اور میں کہوں تو بات کہے دریا

    کہیں برف لپیٹے بیٹھا ہے کہیں ریت بچھا کر لیٹا ہے

    کبھی جنگل میں ڈیرا ڈالے کبھی بستی آن بسے دریا

    اے دریا! تیرا پاٹ بڑا، اے دریا! تیرا زور بڑا

    اے دریا! گم ہو کر تجھ میں قطرے کا نام پڑے دریا

    اے شاعر! تیرا درد بڑا اے شاعر! تیری سوچ بڑی

    اے شاعر! تیرے سینے میں اس جیسا لاکھ بہے دریا

    مآخذ:

    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 378)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY