کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

محمد علوی

کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    کبھی تو ایسا بھی ہو راہ بھول جاؤں میں

    نکل کے گھر سے نہ پھر اپنے گھر میں آؤں میں

    بکھیر دے مجھے چاروں طرف خلاؤں میں

    کچھ اس طرح سے الگ کر کہ جڑ نہ پاؤں میں

    یہ جو اکیلے میں پرچھائیاں سی بنتی ہیں

    بکھر ہی جائیں گی لیکن کسے دکھاؤں میں

    مرا مکان اگر بیچ میں نہ آئے تو

    ان اونچے اونچے مکانوں کو پھاند جاؤں میں

    گواہی دیتا وہی میری بے گناہی کی

    وہ مر گیا تو اسے اب کہاں سے لاؤں میں

    یہ زندگی تو کہیں ختم ہی نہیں ہوتی

    اب اور کتنے دنوں یہ عذاب اٹھاؤں میں

    غزل کہی ہے کوئی بھانگ تو نہیں پی ہے

    مشاعرے میں ترنم سے کیوں سناؤں میں

    ارے وہ آپ کے دیوان کیا ہوئے علویؔ

    بکے نہ ہوں تو کباڑی کو ساتھ لاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY