کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

اشفاق حسین

کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے

    یہ دنیا اصل میں آرام کرنے کے لیے ہے

    محبت اور پھر ایسی محبت جو ہے تجھ سے

    چھپائیں کیوں یہ خوشبو عام کرنے کے لیے ہے

    کرے گا کون تجھ کو تیری بے مہری کا قائل

    یہاں جو بھی ہے تجھ کو رام کرنے کے لیے ہے

    یہ کار عشق میں الجھی ہوئی بے نام دنیا

    حقیقت میں نمود و نام کرنے کے لیے ہے

    بہت چھوٹا سا دل اور اس میں اک چھوٹی سی خواہش

    سو یہ خواہش بھی اب نیلام کرنے کے لیے ہے

    غزل کہنی پھر اس میں اپنے دل کی بات کہنی

    یہی کافی ہمیں بدنام کرنے کے لیے ہے

    بہت دن رہ چکے نام آوروں کے بیچ اشفاقؔ

    اب اپنا نام بس گمنام کرنے کے لیے ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    کہا کس نے مسلسل کام کرنے کے لیے ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے