کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

فراغ روہوی

کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

فراغ روہوی

MORE BYفراغ روہوی

    کہیں سورج کہیں ذرہ چمکتا ہے

    اشارے سے ترے کیا کیا چمکتا ہے

    فلک سے جب نئی کرنیں اترتی ہیں

    گہر سا شبنمی قطرہ چمکتا ہے

    اسے دنیا کبھی دریا نہیں کہتی

    چمکنے کو تو ہر صحرا چمکتا ہے

    ستارہ تو ستارہ ہے مرے بھائی

    کبھی تیرا کبھی میرا چمکتا ہے

    مری میلی ہتھیلی پر تو بچپن سے

    غریبی کا کھرا سونا چمکتا ہے

    مشقت کی بدولت ہی جبینوں پر

    پسینے کا ہر اک قطرہ چمکتا ہے

    قرینے سے تراشا ہی نہ جائے تو

    کسی پہلو کہاں ہیرا چمکتا ہے

    یہ کیا طرفہ تماشہ ہے سیاست کا

    کہیں خنجر کہیں نیزہ چمکتا ہے

    تصور میں فراغؔ آٹھوں پہر اب تو

    کوئی چہرہ غزل جیسا چمکتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے