کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

انشا اللہ خاں انشا

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

انشا اللہ خاں انشا

MORE BYانشا اللہ خاں انشا

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی

    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    خیال ان کا پرے ہے عرش اعظم سے کہیں ساقی

    غرض کچھ اور دھن میں اس گھڑی مے خوار بیٹھے ہیں

    بسان نقش پائے رہرواں کوئے تمنا میں

    نہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں

    یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں

    نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں

    کہیں ہیں صبر کس کو آہ ننگ و نام ہے کیا شے

    غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یک بار بیٹھے ہیں

    کہیں بوسے کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے

    ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں ہشیار بیٹھے ہیں

    نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو

    جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بے کار بیٹھے ہیں

    نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے

    ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ

    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

    RECITATIONS

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    شمس الرحمن فاروقی

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں شمس الرحمن فاروقی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY