کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

شکیب جلالی

کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

    گماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئی

    ہوا نے توڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے

    کہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی

    بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی

    یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی

    درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ

    کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی

    چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا ہے چاند

    کسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی

    یہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے

    کہ دشت شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی

    مکان اور نہیں ہے بدل گیا ہے مکیں

    افق وہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی

    فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

    حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

    شکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر

    دیار چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY