کسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی

علی اکبر ناطق

کسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    کسے کجاوے محملوں کے اور جاگا رات کا تارا بھی

    چھوڑ دی بستی ناقوں نے خاموش ہوا نقارا بھی

    چاند سی آنکھیں کھیل رہی تھیں سرخ پہاڑ کی اوٹوں سے

    پورب اور سے تاک رہا تھا اٹھ کر ابر کا پارہ بھی

    قافلے گرد سفر میں ڈوبے، گھنٹیوں کی آواز گھٹی

    آخری اونٹ کی پشت پہ ڈالا رات نے سیاہ غرارہ بھی

    شہر کے چوک میں ویرانی ہے آگ بجھی، اندھیر ہوا

    راکھ سروں میں ڈال کے بیٹھے، آج ترے آوارہ بھی

    کوئی نہ رستہ ناپ سکا ہے، ریت پہ چلنے والوں کا

    اگلے قدم پر مٹ جائے گا پہلا نقش ہمارا بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے