کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا

سلیم صدیقی

کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا

سلیم صدیقی

MORE BYسلیم صدیقی

    کون کہتا ہے کہ یوں ہی رازدار اس نے کیا

    خوب پرکھا ہے مجھے تب اعتبار اس نے کیا

    بے حجاب نفس تھا وہ یا کوئی غافل بدن

    پیرہن جو بھی دیا ہے تار تار اس نے کیا

    آج پھر اپنی سماعت سونپ دی اس نے ہمیں

    آج پھر لہجہ ہمارا اختیار اس نے کیا

    صرف اک عکس وفا پر ہی نہیں ڈالی ہے خاک

    آئینہ سازوں کو بھی گرد و غبار اس نے کیا

    اپنے بام و در پہ روشن دیر تک رکھا نہیں

    ہر چراغ تمکنت کو بے دیار اس نے کیا

    میں فریب شام کی باہوں میں گم تھا اور مرا

    صبح کی پہلی کرن تک انتظار اس نے کیا

    زندگی سے جنگ میں یہ معرکہ ہوتا رہا

    اک رجز میں نے پڑھا اور ایک وار اس نے کیا

    وہ اکیلا تھا رہ نسبت میں لیکن جانے کیوں

    میری پرچھائیں کو بھی خود میں شمار اس نے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY