خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے

وقار مانوی

خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے

وقار مانوی

MORE BYوقار مانوی

    خوشی دامن کشاں ہے دل اسیر غم ہے برسوں سے

    ہماری زندگی کا ایک ہی عالم ہے برسوں سے

    ستم ہے آنسوؤں کا پونچھنے والا نہیں کوئی

    ہماری آنکھ بھی تر آستیں بھی نم ہے برسوں سے

    وضاحت چاہتا ہوں تجھ سے تیرے اس اشارے کی

    جو پیہم میری جانب ہے مگر مبہم ہے برسوں سے

    رہے ہم ساتھ بھی برسوں ترے کہلائے بھی لیکن

    تجھے اپنا نہ پائے یہ خلش یہ غم ہے برسوں سے

    کسی سے مدعائے دل کہا ہو تو زباں کٹ جائے

    بس اک تو ہے جو دل کے راز کا محرم ہے برسوں سے

    ہماری زندگی کہنے کی حد تک زندگی ہے بس

    یہ شیرازہ بھی دیکھا جائے تو برہم ہے برسوں سے

    خوشی ہے اے وقارؔ اب اور نہ ارمان خوشی باقی

    اگر کچھ ہے تو بس آسودگئ غم ہے برسوں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY