خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا

صابر

خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا

صابر

MORE BYصابر

    خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا

    ہم نے یوں عیبوں کی آبادی کو دونا کر دیا

    طے تو یہ تھا ہر بدی کی انتہا تک جائیں گے

    بے خیالی میں یہ کیسا کام اچھا کر دیا

    مجھ سے کل محفل میں اس نے مسکرا کر بات کی

    وہ مرا ہو ہی نہیں سکتا یہ پکا کر دیا

    چلچلاتی دھوپ تھی لیکن تھا سایہ ہم قدم

    سائباں کی چھاؤں نے مجھ کو اکیلا کر دیا

    میں بھی اب کچھ کچھ سمجھنے لگ گیا ہوں اے طبیب

    درد نے سینے میں اٹھ کر کیا اشارہ کر دیا

    RECITATIONS

    صابر

    صابر

    صابر

    خوبیوں کو مسخ کر کے عیب جیسا کر دیا صابر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY