کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

آشفتہ چنگیزی

کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

آشفتہ چنگیزی

MORE BY آشفتہ چنگیزی

    کس کی تلاش ہے ہمیں کس کے اثر میں ہیں

    جب سے چلے ہیں گھر سے مسلسل سفر میں ہیں

    سارے تماشے ختم ہوئے لوگ جا چکے

    اک ہم ہی رہ گئے جو فریب سحر میں ہیں

    ایسی تو کوئی خاص خطا بھی نہیں ہوئی

    ہاں یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم اپنے گھر میں ہیں

    اب کے بہار دیکھیے کیا نقش چھوڑ جائے

    آثار بادلوں کے نہ پتے شجر میں ہیں

    تجھ سے بچھڑنا کوئی نیا حادثہ نہیں

    ایسے ہزاروں قصے ہماری خبر میں ہیں

    آشفتہؔ سب گمان دھرا رہ گیا یہاں

    کہتے نہ تھے کہ خامیاں تیرے ہنر میں ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY