کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میں

ظفر اقبال

کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میں

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    کس نئے خواب میں رہتا ہوں ڈبویا ہوا میں

    ایک مدت ہوئی جاگا نہیں سویا ہوا میں

    میری سورج سے ملاقات بھی ہو سکتی ہے

    سوکھنے ڈال دیا جاؤں جو دھویا ہوا میں

    مجھے باہر نہیں سامان کے اندر ڈھونڈو

    مل بھی سکتا ہوں کسی شے میں سمویا ہوا میں

    بازیابی کی توقع ہی کسی کو نہیں اب

    اپنی دنیا میں ہوں اس طرح سے کھویا ہوا میں

    شام کی آخری آہٹ پہ دہلتا ہوا دل

    صبح کی پہلی ہواؤں میں بھگویا ہوا میں

    آسماں پر کوئی کونپل سا نکل آؤں گا

    سالہا سال سے اس خاک میں بویا ہوا میں

    کبھی چاہوں بھی تو اب جا بھی کہاں سکتا ہوں

    اس طرح سے ترے کانٹے میں پرویا ہوا میں

    میرے کہنے کے لیے بات نئی تھی نہ کوئی

    کہہ کے چپ ہوگئے سب لوگ تو گویا ہوا میں

    مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفرؔ

    صاف پہچان لیا جاتا ہوں رویا ہوا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY