کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

تاب اسلم

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

تاب اسلم

MORE BYتاب اسلم

    کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

    بدل گیا ہے کچھ ایسا چلن زمانے کا

    میں کس لیے تجھے الزام بے وفائی دوں

    کہ میں تو آپ ہی پتھر ہوں اپنے رستے کا

    کوئی ہے رنگ کوئی روشنی کوئی خوشبو

    جدا جدا ہے تأثر ہر ایک لمحے کا

    وہ تیرگی ہے مسلط کہ آسمانوں پر

    سراغ تک نہیں ملتا کسی ستارے کا

    غضب تو یہ ہے مقابل کھڑا ہے وہ میرے

    کہ جس سے میرا تعلق ہے خوں کے رشتے کا

    تنا ہوا ہے وہاں آج خیمۂ خورشید

    اگا ہوا تھا جہاں کل درخت سائے کا

    وہ جا چکا ہے روپہلی رتوں کے ساتھ مگر

    بھڑک رہا ہے ابھی تک چراغ سینے کا

    گزر رہے ہیں یہ کس پل صراط سے ہم لوگ

    کہ دل میں تابؔ گماں تک نہیں ہے جینے کا

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 385)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY