کوئی اشارہ کوئی استعارہ کیوں کر ہو

اسلم عمادی

کوئی اشارہ کوئی استعارہ کیوں کر ہو

اسلم عمادی

MORE BYاسلم عمادی

    کوئی اشارہ کوئی استعارہ کیوں کر ہو

    اب آسمان سخن پر ستارہ کیوں کر ہو

    اب اس کے رنگ میں ہے بیشتر تغافل سا

    اب اس سے طور شناسی کا چارہ کیوں کر ہو

    وہ سچ سے خوش نہ اگر ہو تو جھوٹ بولیں گے

    کہ وہ جو روٹھے تو اپنا گزارہ کیوں کر ہو

    انہیں یہ فکر کہ دل کو کہاں چھپا رکھیں

    ہمیں یہ شوق کہ دل کا خسارہ کیوں کر ہو

    عروج کیسے ہو ذوق جنوں کو اب اسلمؔ

    سکوں کا آئنہ اب پارہ پارہ کیوں کر ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY