کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

افضال احمد سید

کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

افضال احمد سید

MORE BYافضال احمد سید

    کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

    وہی فسانۂ آشفتہ تر کہا اس نے

    شراکت خس و شعلہ ہے کاروبار جنوں

    زیاں کدے میں کس انجام پر کہا اس نے

    اسے بھی ناز غلط کردۂ تغافل تھا

    کہ خواب و خیمہ فروشی کو گھر کہا اس نے

    تمام لوگ جسے آسمان کہتے ہیں

    اگر کہا تو اسے بال و پر کہا اس نے

    اسے عجب تھا غرور شگفت رخساری

    بہار گل کو بہت بے ہنر کہا اس نے

    یہ گل ہیں اور یہ ستارے ہیں اور یہ میں ہوں

    بس ایک دن مجھے تعلیم کر کہا اس نے

    مری مثال تھی سفاکی تمنا میں

    سپردگی میں مجھے قتل کر کہا اس نے

    میں آفتاب قیامت تھا سو طلوع ہوا

    ہزار مطلع نا ساز تر کہا اس نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY