کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں

کشور ناہید

کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں

کشور ناہید

MORE BY کشور ناہید

    کچھ اتنے یاد ماضی کے فسانے ہم کو آئے ہیں

    کہ جن راہوں میں اجڑے تھے انہی پر لوٹ آئے ہیں

    بڑا پیارا ہے وہ غم جس کو تیرے چاہنے والے

    زمانے بھر کی خوشیوں کے تصدق مانگ لائے ہیں

    دہکتا ہے کلیجے میں کسک کا کوئلہ اب تک

    ابھی تک دل کے بام و در پہ ہجر و غم کے سائے ہیں

    ہمیں دیکھو ہمارے پاس بیٹھو ہم سے کچھ سیکھو

    ہمیں نے پیار مانگا تھا ہمیں نے داغ پائے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites