کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے

سلیمان خمار

کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے

سلیمان خمار

MORE BYسلیمان خمار

    کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے

    اک اندھیرا سا بہ ہنگام سحر کیسا ہے

    کیوں ہر اک راہ میں وحشت سی برستی ہے یہاں

    ایک اک موڑ پہ یہ خوف و خطر کیسا ہے

    پھر یہ سوچوں میں ہیں مایوسی کی لہریں کیسی

    پھر یہ ہر دل میں اداسی کا گزر کیسا ہے

    اس سے ہم چھانو کی امید بھلا کیا رکھیں

    دھوپ دیتا ہے ہمیشہ یہ شجر کیسا ہے

    روشنی ہے نہ ہواؤں کا گزر ہے اس میں

    میرے حصے میں جو آیا ہے یہ گھر کیسا ہے

    ایک مدت ہوئی آنکھوں سے بہے تھے آنسو

    دامن شوق مگر آج بھی تر کیسا ہے

    عمر بھر چل کے بھی پائی نہیں منزل ہم نے

    کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ سفر کیسا ہے

    ہم نے دیکھے تھے کئی خواب سہانے لیکن

    تجربہ اب ہوا خوابوں کا نگر کیسا ہے

    کیسے اگ آیا ہے آبادی میں ویرانہ خمارؔ

    شہر کے بیچ یہ سنسان کھنڈر کیسا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے