کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

محمد علوی

کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

محمد علوی

MORE BYمحمد علوی

    کچھ تو اس دل کو سزا دی جائے

    اس کی تصویر ہٹا دی جائے

    ڈھونڈنے میں بھی مزہ آتا ہے

    کوئی شے رکھ کے بھلا دی جائے

    نام لکھ لکھ کے ترا کاغذ پر

    روشنائی بھی گرا دی جائے

    ناؤ کاغذ کی بنا کر اس کو

    بہتے پانی میں بہا دی جائے

    رات کو چپکے سے اک اک گھر کی

    کیوں نہ زنجیر لگا دی جائے

    نیند میں چونک پڑے گا کوئی

    آؤ اس در پہ صدا دی جائے

    آخری سانس مہک جائے گی

    اس کے دامن کی ہوا دی جائے

    سب کے سب یاد چلے آتے ہیں

    آج کس کس کو دعا دی جائے

    علویؔ ہوٹل میں ٹھہر سکتا ہے

    کیوں اسے گھر میں جگہ دی جائے

    مآخذ:

    • کتاب : Rat Idhar Udhar Roashan (Pg. 368)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY