لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

علی احمد جلیلی

لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

علی احمد جلیلی

MORE BYعلی احمد جلیلی

    لائی ہے کس مقام پہ یہ زندگی مجھے

    محسوس ہو رہی ہے خود اپنی کمی مجھے

    دیکھو تم آج مجھ کو بجھاتے تو ہو مگر

    کل ڈھونڈھتی پھرے گی بہت روشنی مجھے

    طے کر رہا ہوں میں بھی یہ راہیں صلیب کی

    آواز اے حیات نہ دینا ابھی مجھے

    سوکھے شجر کو پھینک دوں کیسے نکال کر

    دیتا رہا ہے سایہ شجر جو کبھی مجھے

    کیوں کر رہی ہے مجھ سے سوالات زندگی

    کہہ دو جواب کی نہیں فرصت ابھی مجھے

    کیا چاہتا تھا وقت پہ لکھنا نہ پوچھیے

    حرمت قلم کی اپنی بچانی پڑی مجھے

    دل داریاں بھی رہ گئیں پردے میں اے علیؔ

    لہجہ بدل بدل کے صدا دی گئی مجھے

    مأخذ :
    • کتاب : Mujalla Dastavez (Pg. 241)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY