لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

ماجد دیوبندی

لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

ماجد دیوبندی

MORE BYماجد دیوبندی

    لاکھ جہاں میں جھوٹوں کی من مانی ہے

    سچائی کی اپنی ریت پرانی ہے

    لب پر آہ مسلسل آنکھ میں پانی ہے

    تنہائی کا ہر لمحہ نقصانی ہے

    شور ہمیشہ رہتا ہے اس کوچے میں

    دل ہے یا سینے میں اک زندانی ہے

    جس کو چاہیں بے عزت کر سکتے ہیں

    آپ بڑے ہیں آپ کو یہ آسانی ہے

    کمزوروں پر رحمت بن کر چھا جاؤ

    میرا قول نہیں حکم ربانی ہے

    ہم سب ان کے دامن سے وابستہ ہیں

    مشکل میں بھی ہم کو یہ آسانی ہے

    تجھ کو زمانہ مجھ سے چھینے نا ممکن

    تیرا میرا رشتہ روحانی ہے

    میں بھی ان کے مداحوں میں شامل ہوں

    اس دنیا پر میری بھی سلطانی ہے

    دھرتی امبر یاری اس کی ہے سب سے

    ماجدؔ جس کو کہتے ہیں سیلانی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Shaakh-e-Dil (Pg. 23)
    • Author : Dr. Majid Deobandi
    • مطبع : Anjum Book Depot, Delhi-6 (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY