لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

مظفر وارثی

لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

مظفر وارثی

MORE BY مظفر وارثی

    لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا

    تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

    سماعتوں میں یہ کیسی مٹھاس گھلتی رہی

    تمام عمر رہا تلخ ذائقہ میرا

    چٹخ گیا ہوں میں اپنے ہی ہاتھ سے گر کر

    مرے ہی عکس نے توڑا ہے آئنہ میرا

    کیا گیا تھا کبھی مجھ کو سنگسار جہاں

    وہیں لگایا گیا ہے مجسمہ میرا

    جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں

    بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

    عداوتوں نے مجھے اعتماد بخشا ہے

    محبتوں نے تو کاٹا ہے راستہ میرا

    میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح

    مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

    میں لٹ گیا ہوں مظفرؔ حیات کے ہاتھوں

    سنے گی کس کی عدالت مقدمہ میرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY