میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھی

لطف الرحمن

میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھی

لطف الرحمن

MORE BYلطف الرحمن

    میں اپنے آپ کو آواز دے رہا ہوں ابھی

    غزل کے ہاتھ میں اک ساز دے رہا ہوں ابھی

    اک ایک حرف مری تشنگی کا ضامن ہے

    اک ایک حرف کو اعجاز دے رہا ہوں ابھی

    ہوا کی زد پہ کوئی برگ زرد ہے کب سے

    سو اس کے سوز کو اک ساز دے رہا ہوں ابھی

    میں در بدر ہوں ابھی اپنی جستجو میں بہت

    میں اپنے لہجے کو انداز دے رہا ہوں ابھی

    تھما کے ہاتھ میں ان کے فضیلتوں کی سند

    میں جاہلوں کو بھی اعزاز دے رہا ہوں ابھی

    عجب طلسم ہے عکس نیاز و نقش ہوس

    میں ربط شوق کو آغاز دے رہا ہوں ابھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY