میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

فرحت شہزاد

میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

فرحت شہزاد

MORE BYفرحت شہزاد

    میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے

    سکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے

    غزل سنا کے کبھی نظم گنگنا کے مری

    وہ کہہ رہا تھا مرے دل کا ماجرا مجھ سے

    گزر کے وقت نے گونگا بنا دیا تھا جنہیں

    وہ لفظ مانگ رہے ہیں نئی صدا مجھ سے

    نہ گل کی کوئی خبر ہے نہ بات گلشن کی

    خفا سی لگتی ہے کچھ روز سے صبا مجھ سے

    وہ جس نے خواب مرے پل میں قتل کر ڈالے

    خراج مانگنے آیا ہے خون کا مجھ سے

    نیاز مند رہا میں بھی اس کا سب کی طرح

    کہ کوئی بھانپ نہ لے اس کا سلسلہ مجھ سے

    عزیز مجھ کو ہیں طوفان ساحلوں سے سوا

    اسی لیے ہے خفا میرا ناخدا مجھ سے

    نہ جانے کون سی محفل میں کس کے ساتھ ہوں میں

    ہے منقطع مرا اپنا بھی رابطہ مجھ سے

    بس ایک بار نظر بھر کے میں نے دیکھا تھا

    نظر ملا نہ سکا پھر وہ بے وفا مجھ سے

    مأخذ :
    • کتاب : Aaina Jhuta hai (Pg. 271)
    • Author : Farhat Shahzad
    • مطبع : Al-hamd Publication (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے