میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

فارغ بخاری

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

فارغ بخاری

MORE BYفارغ بخاری

    میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

    کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں

    مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا

    بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں

    مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ

    کہ ترے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں

    اے مورخ مری اجڑی ہوئی صورت پہ نہ جا

    شہر ویراں ہوں مگر وقت کا سرمایہ ہوں

    روشنی پھیل گئی ہے مری خوشبو کی طرح

    میں بھی جلتے ہوئے صحراؤں کا ہم سایا ہوں

    ہم سفر لاکھ مری راہ کا پتھر بھی بنے

    پھر بھی ذہنوں کے در و بام پہ لہرایا ہوں

    نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے

    پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

    پھر نمو پائی ہے اک درد خوش آغاز کے ساتھ

    دہر میں جرأت اظہار کا پیرایہ ہوں

    عمر بھر بت شکنی کرتا رہا آج مگر

    اپنی ہی ذات کے کہسار سے ٹکرایا ہوں

    دہر میں عظمت آدم کا نشاں ہوں فارغؔ

    کبھی کہسار کبھی دار پہ لہرایا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY