میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

حبیب تنویر

میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

حبیب تنویر

MORE BYحبیب تنویر

    میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھی

    دیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھی

    کر چکا ہوں پار یہ دریا نہ جانے کتنی بار

    پار یہ دریا کروں گا اور کتنی بار ابھی

    گھوم پھر کر دشت و صحرا پھر وہیں لے آئے پاؤں

    دل نہیں ہے شاید اس نظارے سے بے زار ابھی

    کاوش پیہم ابھی یہ سلسلہ رکنے نہ پائے

    جان ابھی آنکھوں میں ہے اور پاؤں میں رفتار ابھی

    اے مرے ارمان دل بس اک ذرا کچھ اور صبر

    رات ابھی کٹنے کو ہے ملنے کو بھی ہے یار ابھی

    جذبۂ دل دیکھنا بھٹکا نہ دینا راہ سے

    منتظر ہوگا مرا بھی خود مرا دل دار ابھی

    ہوں گی تو اس رہگزر میں بھی کمیں گاہیں ہزار

    پھر بھی یہ بار سفر کیوں ہو مجھے دشوار ابھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY