مکان سوئے ہوئے تھے ابھی کہ در جاگے

جاوید انور

مکان سوئے ہوئے تھے ابھی کہ در جاگے

جاوید انور

MORE BYجاوید انور

    مکان سوئے ہوئے تھے ابھی کہ در جاگے

    تھکن مٹی بھی نہ تھی اور نئے سفر جاگے

    جو دن چڑھا تو ہمیں نیند کی ضرورت تھی

    سحر کی آس میں ہم لوگ رات بھر جاگے

    جکڑ رکھا تھا فضا کو ہمارے نعروں نے

    جو لب خموش ہوئے تو دلوں میں ڈر جاگے

    ہمیں ڈرائے گی کیا رات خود ہے سہمی ہوئی

    بدن تو جاگتے رہتے تھے اب کے سر جاگے

    اٹھاؤ ہاتھ کہ وقت قبولیت ہے یہی

    دعا کرو کہ دعاؤں میں اب اثر جاگے

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 395)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY