مکین کو مکان سے نکالئے

سرفراز زاہد

مکین کو مکان سے نکالئے

سرفراز زاہد

MORE BYسرفراز زاہد

    مکین کو مکان سے نکالئے

    یہ نقطہ آسمان سے نکالئے

    ہمارے ساتھ کیجئے مکالمہ

    تو خود کو درمیان سے نکالئے

    خزانہ رہنے دیجئے زمین میں

    ہوس کو داستان سے نکالئے

    نمی جگہ بنا رہی ہے آنکھ میں

    یہ تیر اب کمان سے نکالئے

    ہماری چپ کو سنتے جائیں غور سے

    ہماری بات کان سے نکالئے

    فضاؤں میں پنپ رہی ہیں سازشیں

    سو بال و پر بھی دھیان سے نکالئے

    سمے گزر رہا ہے سانس روک کر

    صدی کو امتحان سے نکالئے

    نکل نہ جائے بات دوسری طرف

    لکیر اک زبان سے نکالئے

    خراب ہو رہی ہے جنس آرزو

    یہ مال اب دکان سے نکالئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY