ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے

سبط علی صبا

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے

سبط علی صبا

MORE BYسبط علی صبا

    ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لیے

    دوشیزگان صبح نے چہرے چھپا لیے

    ہم نے تو اپنے جسم پہ زخموں کے آئینے

    ہر حادثے کی یاد سمجھ کے سجا لیے

    میزان عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف

    اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لیے

    دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی

    لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

    لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول

    پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لیے

    ہر مرحلہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر

    ماؤں نے اپنی گود میں بچے چھپا لیے

    مأخذ :
    • کتاب : Range-e-Gazal (Pg. 228)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY