منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

عفت زریں

منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

عفت زریں

MORE BYعفت زریں

    منزلیں آئیں تو رستے کھو گئے

    آبگینے تھے کہ پتھر ہو گئے

    بے گناہی ظلمتوں میں قید تھی

    داغ پھر کس کے سمندر دھو گئے

    عمر بھر کاٹیں گے فصلیں خون کی

    زخم دل میں بیج ایسا بو گئے

    دیکھ کر انسان کی بیچارگی

    شام سے پہلے پرندے سو گئے

    ان گنت یادیں میرے ہم راہ تھیں

    ہم ہی زریںؔ درمیاں میں کھو گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY