منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے

ادیب سہارنپوری

منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے

ادیب سہارنپوری

MORE BY ادیب سہارنپوری

    INTERESTING FACT

    یہ ادیب سہارنپوری کی آخری غزل ہے جو رسالہ افکار میں میں شائع ہوئی

    منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے

    شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے

    زندگی کے رشتے بھی دور دور تک نکلے

    روح جاگ اٹھتی ہے پھول کے مہکنے سے

    کتنے تیر کھائے ہیں کتنے غم اٹھائے ہیں

    باز ہی نہیں آتا دل مگر دھڑکنے سے

    ایک ساغر لبریز اور صورت سقراط

    جاوداں نہیں ہوتے صرف زہر چکھنے سے

    کار آشیاں بندی اور ہو گیا محبوب

    جوہر طلب چمکا بجلیاں کڑکنے سے

    گرم ہو کے پچھتائے باد تند کے جھونکے

    روشنی چراغوں کی بڑھ گئی بھڑکنے سے

    اے ادیب پر گوئی فرض تو نہیں کوئی

    کیا بری ہے خاموشی اول فول بکنے سے

    مآخذ:

    • Book : jadeed urdu gazal (Pg. 168)
    • Author : adiib sahaaranpurii
    • مطبع : khuda bakhsh oriental public library patna (1995)
    • اشاعت : 1995

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY