مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

مہتاب حیدر نقوی

MORE BYمہتاب حیدر نقوی

    مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں

    یہ شعر طبیعت کی روانی کے لیے ہیں

    وہ چشم اگر سحر بیانی کے لیے ہے

    یہ لب بھی مری تشنہ دہانی کے لیے ہیں

    جو میرے شب و روز میں شامل ہی نہیں تھے

    کردار وہی میری کہانی کے لیے ہیں

    یہ داغ محبت کی نشانی کے علاوہ

    اے عشق تری مرثیہ خوانی کے لیے ہیں

    آتی ہے سکوت سحر و شام کی آواز

    دراصل تو ہم نقل مکانی کے لیے ہیں

    جو رنگ گل و لالہ و نسریں سے ہیں منسوب

    وہ رنگ اب آشفتہ بیانی کے لیے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی

    RECITATIONS

    مہتاب حیدر نقوی

    مہتاب حیدر نقوی,

    مہتاب حیدر نقوی

    مطلب کے لیے ہیں نہ معانی کے لیے ہیں مہتاب حیدر نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY